Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2018

urdu poetry

‏تیرے ہونٹوں سے کتنا مختلف ہے تیری زات کا پہلو اتنے نرم ہونٹوں سے کتنا سخت بولتے هو تم

urdu poetry

نہ دبی دبی سی محبتیں .......... نہ ڈھکی چھپی اب عداوتیں نہ دکھاوے کی مسکراہٹیں ..............نہ روگِ جاں پہ یہ قباحتیں میں تھک گئی ہوں جھوٹ سے......مجھے چاہیئے اب سچ یہاں  گر رنجشیں تو رنجشیں.......... گر چاہتیں تو چاہتیں

urdu poetry

خود سری مستعار کیا لینی آگہی مستعار کیا لینی چاند سورج کے در کا سائل ہے روشنی مستعار کیا لینی زندگی تو ہے موت کی اترن زندگی مستعار کیا لینی جس کی خاطر کوئی تقاضا کرے وہ خوشی مستعار کیا لینی خود لبوں سے جو نوچ دی عاشی وہ ہنسی مستعار کیا لینی

urdu poetry

اگر نالہ و بکا پہ نہ آنا ضروری ہے  تو پھر کیوں یہ سوگِ ہجر منانا ضروری ہے؟ جسے شوق ہے بہت وہ چلا جائے شوق سے  سرِ عام یہ تماشا لگانا ضروری ہے؟ کرو تم جو کچھ بھی عشق روایت بچھڑنے کی سنو! ابتدائے عشق بتانا ضروری ہے یہ جو مجھ پہ کوہِ غم ہے یہ اتنا قلیل ہے کہ اب مجھ پہ آسمان گرانا ضروری ہے سمجھنے کو کافی ہے لبوں پر میری خامشی ہو تم راز دار شور مچانا ضروری ہے؟ ہوۓ ختم سب ہی رشتے ہیں عامر ؔ خلوص کے یہی تو وجہ ہے راز چھپانا ضروری ہے

urdu poetry

دن گزرے پر اس سے بات نہ ہو  تو کیسے یہ لمبی رات نہ ہو  پھر موت بھی آئے غم نہ ہو گا  جب ہات میں تیرا ہات نہ ہو  تب باغ پہ ہے غٙمِ جدائی جب کوئی شجر پہ پات نہ ہو  جاتی رہے ہم سے شمعِ ایماں  بس نیچ ہماری ذات نہ ہو  آ جائے تجھے سکون عامرؔ  گر ہجر کی تجھ پہ رات نہ ہو

urdu poetry

غموں کا حظ اُٹھایا ہے خوشی کا جام باندھا ہے تلاش ِ درد سے منزل کا ہر ایک گام باندھا ہے طواف ِ آرزو ممکن نہیں اب غیر کی ہمدم! میرے جذبوں نے تیرے نام کا اِحرام باندھا ہے کہیں پَر شُوخ جملوں نے سکوں چھینا ہے لوگوں کا کہیں خاموش چیخوں نے کوٸی کُہرام باندھا ہے گُماں کے وَسط میں، اِمکان ہونے سے ذرا پہلے وفا کے زاٸِچے میں عشق کا انجام باندھا ہے وہ لمحہ، جسکے سینے پر اداسی راکھ ملتی ہے اسی کی روشنی سے وقت نے الہام باندھا ہے تری فطرت میں یہ صحرا بدوشی یوں نہیں سدرہ! تیری وحشت سے قدرت نے کوٸی انعام باندھا ہے!

urdu poetry

            پیار و الفت کی روشنی کر لی کون زندہ ہے زندگی کر لی پھول کھلتے نہیں ہیں شاخوں پر میرے ہونٹوں کی نازکی کر لی خون روتی ہیں آندھیاں دل میں اب تو موسم کی تازگی کر لی اس نے اتنا دیا ہے غم مجھ کو درد بڑھتا رہا کمی کر لی میں نے دیکھا ہے پیار کا دریا اس کے ہونٹوں پہ تشنگی کر لی کوئی رستہ نہیں ہے آنکھوں میں کیسے نکلے وہ دوستی کر لی                                                              

urdu poetry

کیوں میں بار ِدگر جاؤں  پھر سے اس کے در جاؤں   تجھ آنکھوں سے جہاں دیکھوں   بے رنگی سے ڈر جاؤں تُو چاہے تو جی اٹھوں   تو چاہے تو مر جاؤں   میں بے انت سمندر ہوں   کیسے دریا میں اتر جاؤں چادر ِشب ہوں میں تیری   تو اوڑھے تو سنور جاؤں خواب نہ دیکھوں تو عنبر  

urdu poetry

 ہم جوروئے بھی تولوگ ہنستے رہے اور آنسو سمندروں میں ڈلتے رہے کسی غیرسے شکوہ میں کیونکر کروں میرے اپنےہی پل پل بدلتے رہے کوئی اِک دَر سے ہی لے گیاسب مگر کوئی کعبہ وقبلہ بدلتے رہے ایک تم ہی تھے جو مسکراتے رہے لوگ اشکوں کی بارش میں جلتے رہے

urdu poetry